ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈاکٹر ممتاز احمد خان کو سپرد خاک کردیا گیا

ڈاکٹر ممتاز احمد خان کو سپرد خاک کردیا گیا

Sat, 29 May 2021 11:35:45    S.O. News Service

بنگلورو،29؍مئی (ایس او نیوز) بانی الامین تحریک جنوبی ہند کے سر سید کہلانے والے ڈاکٹر ممتاز احمد خان صاحب کو  بعد نماز جمعہ پر نم آنکھوں کے سپرد خاک کردیا گیا۔ مرحوم ہی نے اپنی حیات میں یہ وصیت کی تھی کہ ان کا انتقال ہوجانے پر انہیں الامین رہائشی اسکول ہوسکوٹے کے احاطہ میں مسجد ممتاز سے قریب دفن کیا جائے، اسی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان کی تجہیز وتدفین عمل میں آئی۔ بعد نماز جمعہ مسجد ممتاز میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین وہیں عمل میں آئی جس میں سینکڑوں رشتہ داروں، قائدین اور عمائدین نے شرکت کی۔ تجہیز وتدفین میں شرکت کرنے والوں میں سابق وزیر آر۔ روشن بیگ رکن کونسل نصیر احمد اور سنگین جامع مسجد تارا منڈل کے سید احمد بھی شامل ہیں۔

کووِڈ لاک ڈاؤن نافذ رہنے کی وجہ سے لوگ ڈاکٹر ممتاز احمد کی تجہیز وتدفین میں شرکت نہیں کرسکے،ورنہ لوگوں کا اژدہام ان کی تجہیز وتدفین میں شرکت کرتا۔ ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ملک بھر بالخصوص جنوبی ہندوستان میں ان کی تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد ررکھی جائیں گی۔6ستمبر 1935کو ترچنا ہلی میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا جنم ایک معزز تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوا۔ ان کے والد یوسف اسماعیل خان پیشہ سے وکیل تھے اور والدہ سعادت النسائئ بیگم صاحبہ اس دور کی بی اے ڈگری ہولڈر تھیں۔ دونوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجوئیٹ کیا تھا جس کی بدولت بچپن ہی سے ڈاکٹر ممتاز کو بھی تعلیم کی طرف رغبت رہی اور انہوں نے 1963میں مدراس یونیورسٹی چنئی سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ اپنے اس پیشہ کو قربان کرکے صرف 31سال کی عمر میں جنوبی ہندوستان میں تعلیمی انقلاب پیدا کرنے والی تحریک الامین تحریک کی داغ بیل ڈالی۔اس تحریک کے ماتحت اس وقت ملک بھر میں 250سے زیادہ تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ الامین تحریک کے ابتدائی دور میں ڈاکٹر صاحب کو کئی مشکل مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ چند مقامات جیسے کولار اور دیگر مقامات پر الامین تعلیمی اداروں کی تعمیر کے دوران راتیں، جلی اور ریت کے ٹیلوں پر سوکر گزاردیا کرتے تھے۔ تحریک کو امداد کی خاطرجب مخیر حضرات سے مالی تعاون حاصل کرنے ان سے ملاقات کیلئے جاتے تو کئی لوگ گھروں میں ہوتے ہوئے بھی ان سے ملاقات کرنے سے کتراتے تھے، ایسے مشکل دور میں بھی ڈاکٹر صاحب نے ہارمانی اور نہ ہی پیچھے مڑ کر دیکھا۔ الامین تحریک نے جب ایک شکل اختیار کرلی تو ان کے کئی رفقاء اس تحریک سے جڑگئے اور ڈاکٹر صاحب کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے، ایسی ایک عظیم شخصیت کی رحلت پر علمی ادبی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈاکٹر ممتاز کے پسماندگان میں بیوی ان کے اکلوتے بیٹے عمر اسماعیل خان اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔


Share: